Saturday, 9 February 2013

کیا جشن میلادُالنبی ﷺ منانا جائز ہے؟




کیا جشن میلادُالنبی  ﷺ منانا جائز ہے؟
ازقلم:نورمحمد برکاتی،ادارۂ دوستی مالیگاؤں
Cell:08087799269
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے باطل لرزہ براندام ہوا،طاغوتی قوتیں سرخمیدہ ہوئیں،آتش کدۂ فارس بجھ گیا،بحیرۂ طبریا خشک ہوا،ایوانِ کسرا کے کنگورے ریزہ ریزہ ہوگئے،ظلمتیں مٹ گئیں اور سرکارِ دوعالم  ﷺ کے نور سے اجالا ہوگیا اور اسی نور کی آمد کا ذکر قرآن مجید میں ہوا:
’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔‘‘(ترجمہ کنزالایمان،سورۂ مائدہ،آیت ۱۵)
       مفسرین نے نور کی تفسیر میں نور کو ذاتِ مصطفی  ﷺ مراد لیا ہے۔اور حضور ﷺ کی ولادت ، حالات و معجزات کا ذکر جشن میلاد میں مقصود ہوتا ہے اس لیے ثابت ہوا کہ ذکر میلاد قرآن کا شعار ہے۔ذکرِ میلاد النبی  ﷺ خود رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا:
’’بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔‘‘(کنزالایمان،سورۂ آلِ عمران،آیت ۱۶۴)
’’ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔‘‘(سورۂ انبیائ،آیت۱۰۷)
’’اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔‘‘(سورۂ انفال،آیت۳۳)
’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔‘‘(سورۂ الفرقان،آیت۵۶)
’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے۔‘‘(سورۂ توبہ،آیت۱۲۸)
’’اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن لوگ نہیں جانتے۔‘‘(سورۂ سبا،آیت۳۸)
       حضور  ﷺ نے خود صحابہ کے مجمع میں اپنا میلاد بیان فرماتے ہوئے کہا:
       ’’بے شک مَیں اللہ عز وجل کے ہاں اس وقت بھی خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جب آدم علیہ السلام ابھی مٹی کے خمیر میں تھے اور میں تمہیں پہلے کی خبر دیتا ہوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ کا خواب ہوں کہ انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھابے شک ان سے ایک نور خارج ہوا جس سے ان کے لیے شام کے محلات روشن ہوگئے۔‘‘(مسنداحمد ،مستدرک للحاکم،معجم الکبیر للطبرانی،شعب الایمان،صحیح ابن حبان وغیرہم)
       میلادالنبی  ﷺ پر صحابۂ کرام کا عمل بھی ثابت ہے۔چناںچہ امام بخاری کے استاذ امام احمد بن حنبل لکھتے ہیں:
       ’’سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ  ﷺ کا اپنے اصحاب کے ایک حلقہ سے گزر ہوا آپ نے فرمایا: تم یہاں کیوں بیٹھتے ہو؟انہوں نے جواب دیا:ہم اللہ عزوجل کا ذکر کرنے اور اس نے ہمیں جو اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اس پر اس کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اس نے آپ  ﷺ کو بھیج کر ہم پر جو احسان کیا اس کا ذکر کرنے کے لیے یہ جلسہ منعقد کیا ہے۔آپ  ﷺ نے فرمایا:ابھی جبریل علیہ السلام آئے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کررہا ہے ۔‘‘(مسند کبیر للطبرانی،جلد۷۔مسند احمد بن حنبل،جلد۴۔نسائی،جلد۲)
       رسول کریم ﷺ پیر کے دن روزہ رکھتے تھے صحابۂ کرام نے اس دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی تو فرمایا:’’اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔‘‘(صحیح مسلم،کتاب الصیام۔ ابوداؤد۔مسند احمد بن حنبل)
       ولادت مصطفی  ﷺ کی خوشی میں جھنڈا لگانا جبریل امین کی سنت ہے چناںچہ الخصائص الکبریٰ للسیوطی میں ہے:’’ولادت مصطفی  ﷺ پر جھنڈا لگا نا سنتِ جبریل امین ہے۔‘‘
       ہم نے قرآن و حدیث اور تعاملِ صحابہ سے میلاد کے دلائل پیش کیے ہیں اب ذرا منکرینِ میلاد کے گھر کی خبر لی جاتی ہے کہ یہ لوگ ہمیں میلادالنبی  ﷺ منانے سے روکتے ہیںجب کہ ان کے اکابر اور ان کے درمیان تضاد ملتا ہے۔ذیل میں منکرینِ میلاد کے اکابر کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں:
ابن تیمیہ : ’’ولادت نبوی کے وقت کی تعظیم اور اسے عید بنانے میں بعض لوگوں کو ثوابِ عظیم حاصل ہوسکتا ہے یہ ثواب ان کی نیک نیتی اور رسول اللہ  ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے ہوگا۔‘‘ (اقتضاء الصراط المستقیم،ص۷۷)
حاجی امداداللہ مہاجر مکی:’’محفل مولود شریف میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعۂ برکات سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں۔‘‘ (فیصلۂ  ہفت مسئلہ،ص ۹) (امدادالمشتاق، ص۸۸۔ شمائم امدادیہ،ص۸۷،۸۸؍پر بھی ذکر و قیام کو درست کہا ہے۔)
مولوی رشید احمد گنگوہی:’’جب ابو لہب جیسے کافر کے لیے میلادالنبی ﷺ کی خوشی کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہوگئی جو کوئی امتی آپ کی ولادت کی خوشی کرے اور حسب وسعت آپ کی محبت میں خرچ کرے تو کیوں کر اعلیٰ مراتب حاصل نہ کرے گا۔(احسن الفتاویٰ،ج۱،ص۳۴۷)…رشید احمد گنگوہی نے مولوی خلیل انبیٹھوی کو کتاب ’’تواریخ حبیب الٰہ‘‘ دے کرمحفل میلاد میں وعظ کے لیے بھیجا۔‘‘(تذکرۃالرشید ج۲،ص۲۸۴)
مولوی قاسم نانوتوی:مولوی قاسم نانوتوی سے پوچھا گیا آپ میلاد نہیں کرتے ؟مولانا عبدالسمیع کرتے ہیں،کہا:’’ان کو حضور  ﷺ سے محبت زیادہ ہے دعا کرو ہمیں بھی زیادہ ہوجائے۔‘‘(سوانح قاسمی، ج۱،ص۴۷۱۔ سفر نامہ لاہور و لکھنؤ،ص۲۲۸،مجالس حکیم الامت،ص۱۲۴)
وحیدالزماں وہابی:’’فاتحہ ومیلاد کا انکار جائز نہیں۔‘‘(ہدیۃالمہدی،ص۱۱۸)ایک اور جگہ لکھا ہے:’’معتبر قول یہی ہے کہ محفلِ میلاد جائز ہے کیوں کہ ثواب کی نیت سے ہی ہوتی ہے پھر اس میں بدعت کا کیا دخل۔‘‘(ہدیۃالمہدی،ص۴۶)
نواب صدیق حسن بھوپالی نے لکھا:’’جسے آپ  ﷺ کے میلاد کا حال سن کر خوشی نہ ہو وہ مسلمان نہیں۔‘‘ (الشمامۃالعنبریہ، ص۱۲)

       میلادالنبی کی تاریخی حیثیت پر سوال اُٹھاتے ہوئے منکرین میلاد کہتے ہیں کہــ ـ’’ یہ ایک فضول خرچ عیاش طبع بادشاہ ملک مظفر (شاہ اربل) کی ایجاد ہے۔ــ‘‘اس اعتراض کی حقیقت یہیں واضح ہوجاتی ہے کہ میلاد کا ذکرتو خود رب تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے جس کی دلیل اوپر دی جا چکی ہے۔ہاں! میلادالنبیﷺ کے جشن کا باضابطہ احتمام شاہ  اربل نے شروع کیا۔ وہ فضول خرچ اور عیاّش تھا یا نیک و عادل اس کا تجزیہ ذیل میں ملاحظہ کریں۔
       امام عزالدین ابن اثیر شیبانی نے لکھا ہے کہ ۴۸۴ ھ؁ میں جلال الدولہ جنگی مہمات سے فارغ ہوکر بغداد آیا تو اس نے دھوم دھام سے میلاد منایا۔(الکامل فی التاریخ)اس کو امام ذہبی نے بھی تحریر کیا۔ (تاریخ اسلام حوادثات،ص۴۸۴) مولوی حسن ندوی نے بھی اس کی تائید کی (سیارہ ڈائجسٹ،رسول نمبر جلد۲ص۴۱)
       شاہ اربل کے کردار کے متعلق حافظ ابن کثیر ، امام جلال الدین سیوطی، شیخ ابن خلکان،امام ذہبی،امام قزوینی، شیخ مبارک، امام ابو شمامہ، شیخ محمد قاوسی اور ابن جوزی وغیرہم نے شاہ اربل کو نہایت سخی، عادل، کفایت شعار، بہادر، جرأت مند اور دانا حاکم تحریر کیا ہے۔(الحاوی الفتاویٰ،ج۱،ص۱۸۹،۱۹۰۔حسن المقصدللسیوطی،وفیات الاعیان،ج۳ص۵۳۹۔العیر فی خبر من غیر ج۲ص۲۲۴،سیرالاعلام النبلائ، ج۱۶ص۲۷۵۔آثارالبلاد و اخبارالعباد،ص۲۹۰۔شذرات الذہب ،ج۵ ص۱۴۰)
       ان کے علاوہ حافظ ابن کثیر اور ابن جوزی نے جشن میلادالنبی  ﷺ کے موضوع پر مستقل کتابیں لکھیں ان میں بھی انہوں نے شاہ اربل کو نیک اور متقی بادشاہِ اسلام بتایا ہے اور لکھا ہے کہ اس بادشاہ کی جانب سے منائے جانے والے جشنِ میلاد النبی ﷺ میں اکابر علما اور اہلِ دل شرکت کرتے تھے اور اس جشن کو جائز جانتے تھے۔تفصیل کے لیے میلادِ ابن کثیر اور میلاد کے موضوع پرابن جوزی کے رسالے کا مطالعہ کیجیے …جشن میلاد کی مخالفت بیزارذہن کی اُپج اور بیمار دل کی علامت ہے۔عشق دلائل کا محتاج نہیں ہوتامگر عقلِ ناقص کے پرستاروں کی تسکین کے لیے عید میلاد کے جواز پر دلائل فراہم کردیے جاتے ہیںضرورت صرف کُھلے دل سے قبول کرنے کی ہے۔